0
                                                                   (غلام نبی مدنی،مدینہ منورہ)



محمد شہباز باصلاحیت نوجوان اور IT ایکسپرٹ ہیں۔بہ مشکل 20 سال عمر ہوگی۔BS کے سٹوڈنٹ ہیں۔بلا کے ذہین اور نہایت محنتی ہیں۔ان کی ذہانت اور محنت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ پنجاب کےایک چھوٹے سے قصبے میں بیٹھ کر انتہائی سست رفتار انٹرنیٹ سے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنا گرویدہ کیا۔کم عمری میں خود ویب سائٹ ڈیزائن کرکے دنیا بھر کے لاکھوں وزٹرز کو نہ صرف فائدہ دیا بلکہ ویب سائٹ کے ذریعے معقول آمدنی  بھی کمائی۔بدقسمتی سے ان کی ویب سائٹ تکنیکی خرابی کا شکار ہوگئی جسے معقول رقم میں  سیل کرنا پڑا۔محمد شہباز شروع سے باہمت اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔سال پہلے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے YouTube طرز کی ویب سائٹ بنانے کا ارادہ ہے۔اس بار انہوں نے یوٹیوب طرز کی اپنی وہ سائٹ بھی دکھائی جو تین مہینے پہلے بنائی تھی۔صرف تین مہینوں میں ان کی یہ سائٹ اچھا خاصا پرافٹ بھی کماچکی ہے۔


ویب سائٹس پر آمدنی دراصل اشتہارات کے ذریعے ہوتی ہے۔عموما یہ اشتہارات اخلاقی وشرعی اقدار سے ٹکراتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا کا ایمان صرف"سرمایہ"بن گیا ہے۔چاہے اخلاقی اقدار پامال ہوں یا سماج بدتہذیبی اور بدتمیزی سے دوچار ہو،سرمایے کے پجاریوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں عورت کو بازار میں لاکر بیچا جاتا ہے۔اس کے جسم کی نمائش کرواکر سرمایہ اکٹھا کیاجاتاہے۔دنیا بھر میں سرمایہ کمانے کی سب سے بڑی انڈسٹری شوبز کی ہے۔دنیا کے بڑے بڑے مالداراس انڈسٹری سے وابستہ وہ اداکار ہیں جو بغیر کسی قانونی تقاضے کے عورتوں سے تعلقات بناتے ہیں،جنہیں دنیا ہیروز اور آئیڈیل کہتی ہے۔اس انڈسٹری کا مدار صرف ان حیاباختہ ادکاروں پر ہے۔مغرب کو عورتوں کے حقوق پر واویلا کرتے شرم نہیں آتی،یہی لوگ ہیں جنہوں نے عورتوں کو حقوق کا نعرہ دے کر ان کو بازاروں میں لاکر بیچا اور معاشرے کو بداخلاقی کی راہ دکھائی۔بزنس پبلسیٹی کے لیے عورتوں کے جو دام لگتے ہیں وہ تحفظ حقوق نسواں کے نام نہاد علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ ہے۔سرمایے کی ہوس نے صنف نازک کو مہنگی ترین آئٹم بنادیا ہے۔ٖغلاموں کی تجارت ختم کرنے پر کریڈٹ لینے والوں کی منافقت دیکھئے کہ عورتوں کی تجارت کے لیے انٹرٹینمنٹ اور پرڈوکٹس کی تشہیر  کے لیے ایڈورٹائزنگ کمپنیوں ایسے بازار کھولے گئے۔


بہرحال محمد شہباز نے اپنی نئی ویب سائٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ روزانہ دنیا بھر سے ہزاروں وزٹرز میری ویب سائٹ کا وزٹ کررہے ہیں۔راقم نے جب ویب سائٹ کا موازنہ کیا تو انتہائی خوشی ہوئی کہ کس طرح کم عمری میں یہ نوجوان آگے بڑھ رہا ہے۔لیکن ویب سائٹ پر موجود بعض فحش اشتہارات اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر بنائے گئے فولڈرز میں فلمیں اور ان سے وابستہ مواد دیکھ کر شدید رنج ہوا۔انتہائی شفقت سے کہا کہ شہباز بھائی آپ کی محنت اور جدوجہد کو سلام کرتا ہوں مگر یہ جدوجہد ایک غلط چیز کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے۔قرآن پاک کی سورہ نور سے انہیں اللہ کا یہ فرمان پڑھ کر سنایا کہ"یادرکھو جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے"۔عرض کیا ایک گناہ وہ ہے جو ہم بذات خود کرتے ہیں اور پھر اس پر نادم ہوکر اللہ سے معافی مانگتے ہیں،وہ کریم ذات ہمارے گناہوں کو دھو دیتی ہے۔مگر ایک گناہ وہ ہے جو نہ صرف ہم کرتے ہیں،بلکہ لوگ صرف آپ کی وجہ سے کرتے ہیں کیوں کہ آپ نے لوگوں کو اس گناہ کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا ہوتاہے۔کیا پتہ کل کو آپ دنیا سے چلے جائیں اور گناہ کے لیے بنایاہوا آپ کا پلیٹ فارم باقی رہے،یوں یہ "گناہ جاریہ "ہمیشہ آپ کے لیے مصیبت کا باعث رہے گا۔حالیہ دنوں قندیل بلوچ کی موت ہم سب کے لیے عبرت کا نشان ہے۔

یہ سن کر محمد شہباز کو شدید جھٹکا لگا۔کہنے لگے اجازت دیں ابھی جاکر ویب سائٹ بدکرتاہوں۔عرض کیا کہ جذبات میں آکر کام کرنا اچھا نہیں ہوتا۔غوروفکر کے بعد بے حیائی پر مبنی مواد ہٹادیں اور فحش اشتہارات بھی بند کروادیں۔کہنے لگے ویب سائٹس چلتی ہی ان فحش اشتہارات اور حیاباختہ فلموں پر ہیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بے حیائی اور فحاشی کو سرمائے کے ساتھ دنیا نے لازم کردیا ہے اور لاشعوری طور پرسادہ لوح  مسلمان کیسے سرمائے کی خاطر بے حیائی اور فحاشی کے مرتکب ہورہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ جو چیز چند سال پہلے گناہ تھی میڈیا کی چکاچوند نے آج ہمیں اتنالاپرواہ کردیا کہ ہم اس گناہ کو گناہ سمجھنے کے لیے ہی تیار نہیں۔خبروں اور نیوز کے نام پر ہم کس طرح فحاشی کو پرموٹ کرنے کا سبب بنتے ہیں اس کا اندازہ  لاکھوں روپے کے ان اشتہارات سے لگایا جاسکتا ہے جن کے ذریعے میڈیا چینلز اور اخبارات چلتے ہیں۔تسلیم کے سارے اشتہارات برے نہیں ہوتے مگر 90 فیصد اشتہارات نہ صرف اسلامی اقدار سے ٹکراتے ہیں بلکہ ہماری تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو بھی تباہ کررہے ہیں۔بھلا انڈین اداکاروں کو نیم عریاں لباس پہنا کر موبائل اور سم کمپنیاں کس قسم کی پروڈکٹس کی تشہیر کرتی ہیں۔سرعام عشق محبت کی باتیں اور بیڈرومز کی کیفیات کس مقصد کے لیے دکھائی جاتی ہیں؟
محمد شہباز ایسے کتنے نوجوان ہیں جو لاشعوری طور پر بے حیائی اور فحاشی کو پرموٹ کررہے ہیں۔ہرمسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برائی سے روکے تاکہ اللہ کے محبوب کا دین رسوا ہو،نہ ہمارا معاشرہ بے حیائی کا شکار ہو۔
اللہ ہم سب کو ہمت کرنے کی توفیق دے اور محمد شہباز ایسے نوجوانوں کو بامقصد اور حلال ذریعہ معاش دے۔


gmadnig@gmail.com
31جولائی 2016

إرسال تعليق

 
Top